-
دیکھا آئینہ تو پِھر جذبوں کا یوں اظہار ہوا وہ شخص پِھر سے میرے سامنے اشکبار ہوا
-
دکھ میں رات کٹی تو سویرا بھی مدھم سا رہا تنحیون كے سوگ کا چرچا بھی بےشمار ہوا
-
بڑے وثوق سے رکھا تھا ربط انکی آنكھوں سے وہ جو لمحہ جدائی کا تھا پِھر کیوں بے قرار ہوا
-
ان سے ملنے کی تمنا میں جو تھی زندگی گزری پِھر یوں جان ہَم نے لٹا دی تھی کے نہ انتظار ہوا
-
جو عشق ہَم نے کیا تھا اُس کا عالم مت پوچھو مٹا دیا خود کو ہَم نے کے محبت کا کاروبار ہوا
ارسال کنندہ Shabeeb Hashmi

