انسانوں کے اِس بستی میں

insano

انسانوں کے اِس بستی میں
انسانوں کے تلاش میں ہوں
بےحسی کے ردا اوڑھے۔۔۔ نیم وا حجابوں سے
آنكھوں کے سرخی مائل
گہرے پانیوں میں اجڑے ہوئے جزیرے
ڈھلتے سورج کی لڑکھڑاتی ہوئی کرنوں کی
آخری رسومات میں گھنگھور گھٹاؤں کا چغہ پہنے

تبصرہ کریں