در چھوڑ کے سوئے دار نکلی

ghazal

در چھوڑ کے سوئے دار نکلی
روح مری قفس سے بیزار نکلی

اک اک سانس بیچ رہی ہے
زندگی موت کی خریدار نکلی

لگنے لا تماشایِئوں کا ہجوم
پِھر کوئی جان سار بازار نکلی

بحر قضا میں زندگی کی ناؤ
اس پر ڈوبی اس پر نکلی

بتِ انجم کو بخش کے سانسیں
دِل پر سوز جان بے قرار نکلی

تبصرہ کریں