جب بھی تم سامنے آتے ہو

urdu-poetry

جب بھی تم سامنے آتے ہو
اب کی ساری خزاں زدہ گھڑیاں
گزری بہاروں میں ڈھل سی جاتی ہیں
وقت کی آغوش میں سوئی ہوئی وفائیں
پِھر سے مچل سی جاتی ہیں
اک بہکا سا خیال دریچوں پہ دستک دیئے بغیر
دِل کے آنگن میں آ جاتا ہے
پِھر سے دبی ہوئی سسکیوں کو بہلایا جاتا ہے
اس وحشت زدا آنگن کے اک کونے میں
جذبوں کے طاق پر پڑا
گل کیا ہوا تیری یادوں کا چراغ
پِھر آتش عشق سے جلنے لگتا ہے
پِھر میرا تصور تیرے تصور میں ڈھلنے لگتا ہے
جب بھی تم سامنے آتے ہو
تیرے پر لطف لہجے کی مسیحائی سے
شہر خموشاں میں دفن میرے جوان جذبات کو
پِھر سے حیات نو عطا ہوتی ہے
پِھر اک نئی محبت کی ابتدا ہوتی ہے

تبصرہ کریں