-
ہے آپ کے ہونٹوں پہ جو مسکان وغیرہ قربان گئے اس پہ دل و جان وغیرہ
-
بلی تو یوں ہی مفت میں بدنام ہوئی ہے تھیلے میں تو کچھ اور تھا سامان وغیرہ
-
بے حرص و غرض قرض ادا کیجیے اپنا جس طرح پولس کرتی ہے چالان وغیرہ
-
اب ہوش نہیں کوئی کہ بادام کہاں ہے اب اپنی ہتھیلی پہ ہیں دندان وغیرہ
-
کس ناز سے وہ نظم کو کہہ دیتے ہیں نثری جب اس کے خطا ہوتے ہیں اوزان وغیرہ
-
جمہوریت اک طرز حکومت ہے کہ جس میں گھوڑوں کی طرح بکتے ہیں انسان وغیرہ
-
ہر شرٹ کی بوشرٹ بنا ڈالی ہے انورؔ یوں چاک کیا ہم نے گریبان وغیرہ



