-
ہم رہے پر نہیں رہے آباد یاد کے گھر نہیں رہے آباد
-
کتنی آنکھیں ہوئیں ہلاک نظر کتنے منظر نہیں رہے آباد
-
ہم کہ اے دل سخن تھے سر تا پا ہم لبوں پر نہیں رہے آباد
-
شہر دل میں عجب محلے تھے ان میں اکثر نہیں رہے آباد
-
جانے کیا واقعہ ہوا کیوں لوگ اپنے اندر نہیں رہے آباد



