ہجر کا تارا ڈوب چلا ہے ڈھلنے لگی ہے رات وصی

wasi-shah-ghazal

ہجر کا تارا ڈوب چلا ہے ڈھلنے لگی ہے رات وصی
قطرہ قطرہ برس رہی ہے اشکوں کی بارات وصی

تیرے بعد یہ دنیا والے مجھ کو پاگل کر دیں گے،
خوشبو کے دیس میں مجھ کو لے چل اپنے ساتھ وصی

یونہی چپ کی مہر لگا کر گم سم کب تک بیٹھو گے
خاموشی سے دم گھٹتا ہے چھیڑو کوئی بات وصی

آج تو اس کا چہرہ بھی کچھ بدلا بدلا لگتا ہے،
موسم بدلا، دنیا بدلی، بدل گئے حالات وصی

میرے گھر خوشبو کا یہ رقص اُسی کے دم سے ہے،
اُس کے ساتھ چلی جائے گی پھولوں کی برسات وصی،

چھوڑ وصی اب اُسکی یادیں تجھ کو پاگل کر دیں گی،
تو قطرہ ہے، وہ دریا ہے، دیکھ اپنی اوقات وصی

تبصرہ کریں