مواد پر جائیں
SadPoetry

ملے کیسے صدیوں کی پیاس اور پانی، ذرا پھر سے کہنا

شیئر کریں
کارڈ بنائیں
  1. ملے کیسے صدیوں کی پیاس اور پانی، ذرا پھر سے کہنا بڑی دلرُبا ہے یہ ساری کہانی، ذرا پھر سے کہنا

  2. کہاں سے چلا تھا جدائی کا سایا، نہیں دیکھ پایا کہ رستے میں تھی آنسوؤں کی روانی، ذرا پھر سے کہنا

  3. ہَوا یہ خبر تُو سناتی رہے اور مَیں سُنتا رہوں بدلنے کو ہے اب یہ موسم خزانی، ذرا پھر سے کہنا

  4. مُکر جانے والا کبھی زندگی میں خوشی پھر نہ پائے یونہی ختم کرلیں، چلو یہ کہانی، ذرا پھر سے کہنا

  5. سمے کے سمندر، کہا تُو نے جو بھی، سُنا، پر نہ سمجھے جوانی کی ندّی میں تھا تیز پانی، ذرا پھر سے کہنا

تصحیح بتائیں

امجد اسلام امجد کا مزید کلام

تمام کلام