-
ملے کیسے صدیوں کی پیاس اور پانی، ذرا پھر سے کہنا بڑی دلرُبا ہے یہ ساری کہانی، ذرا پھر سے کہنا
-
کہاں سے چلا تھا جدائی کا سایا، نہیں دیکھ پایا کہ رستے میں تھی آنسوؤں کی روانی، ذرا پھر سے کہنا
-
ہَوا یہ خبر تُو سناتی رہے اور مَیں سُنتا رہوں بدلنے کو ہے اب یہ موسم خزانی، ذرا پھر سے کہنا
-
مُکر جانے والا کبھی زندگی میں خوشی پھر نہ پائے یونہی ختم کرلیں، چلو یہ کہانی، ذرا پھر سے کہنا
-
سمے کے سمندر، کہا تُو نے جو بھی، سُنا، پر نہ سمجھے جوانی کی ندّی میں تھا تیز پانی، ذرا پھر سے کہنا


