-
غم حیات کا جھگڑا مٹا رہا ہے کوئی چلے بھی آؤ کہ دنیا سے جا رہا ہے کوئی
-
کہو اجل سے ذرا دو گھڑی ٹھہر جائے سنا ہے آنے کا وعدہ نبھا رہا ہے کوئی
-
وہ آج لپٹے ہیں کس نازکی سے لاشے سے کہ جیسے روٹھے ہوؤں کو منا رہا ہے کوئی
-
کہیں پلٹ کے نہ آ جائے سانس نبضوں میں حسین ہاتھوں سے میت سجا رہا ہے کوئی
ارسال کنندہ Rana Shahbaz