غم حیات کا جھگڑا مٹا رہا ہے کوئی

faraz last ghazal

غم حیات کا جھگڑا مٹا رہا ہے کوئی
چلے بھی آؤ کہ دنیا سے جا رہا ہے کوئی

کہو اجل سے ذرا دو گھڑی ٹھہر جائے
سنا ہے آنے کا وعدہ نبھا رہا ہے کوئی

وہ آج لپٹے ہیں کس نازکی سے لاشے سے
کہ جیسے روٹھے ہوؤں کو منا رہا ہے کوئی

کہیں پلٹ کے نہ آ جائے سانس نبضوں میں
حسین ہاتھوں سے میت سجا رہا ہے کوئی

تبصرہ کریں