-
جو بات نہیں کرتے ان بولتے رنگوں میں میں نے تمهیں سوچا ہے جو دل سے گزرتے ہیں ان دلفریب راستوں پہ میں نے تمهیں دیکها ہے
-
کہنے کو تم سے باتیں تو بہت ہیں لیکن الفاظ نہیں ملتے جو میری نظر میں ہیں اس شہر کے باغوں میں وه پهول نہیں کهلتے
-
میں نے تمهیں جانا ہے اظہار کے رشتوں سے اس طرح جدا ہو کے جیسے کوئی بندہ دهرتی پہ نگاہ ڈالے اک بار خدا ہو کے


