مواد پر جائیں
SadPoetry

‎جو بات نہیں کرتے

امجد اسلام امجد غزل 3 اشعار
شیئر کریں
کارڈ بنائیں
  1. ‎جو بات نہیں کرتے ‎ان بولتے رنگوں میں ‎میں نے تمهیں سوچا ہے ‎جو دل سے گزرتے ہیں ‎ان دلفریب راستوں پہ ‎میں نے تمهیں دیکها ہے

  2. ‎ کہنے کو تم سے باتیں تو بہت ہیں لیکن الفاظ نہیں ملتے ‎جو میری نظر میں ہیں ‎اس شہر کے باغوں میں ‎وه پهول نہیں کهلتے

  3. ‎میں نے تمهیں جانا ہے ‎اظہار کے رشتوں سے ‎اس طرح جدا ہو کے ‎جیسے کوئی بندہ ‎دهرتی پہ نگاہ ڈالے ‎اک بار خدا ہو کے

تصحیح بتائیں

امجد اسلام امجد کا مزید کلام

تمام کلام