عید کا دن گلے آج تو مل لے ظالم

عید کا دن گلے آج تو مل لے ظالم
رسم دنیا بھی ہے موقع بھی ہے دستور بھی ہے

عشق اِس طرح كے گستاخ تقاضے نہ کرے
حُسن مزدور بھی ، مجبور بھی ، مغرور بھی ہے

غرور حسن كے صدقے محبت یوں نہیں کرتے
بھری محفل میں ظاہر دِل کی وحشت یوں نہیں کرتے

یہ مانا تم حسیں اور تمہیں حق ہے شرارت کا
کسی کے جان پہ بن جائے شرارت یوں نہیں کرتے

جسے تم حُسن کہتے ہو وہ کعبہ ہے نگاہوں کا
ادب لازم ہے کعبے کی زیارت یوں نہیں کرتے

کچھ اپنے حسن کی خیرات دے دو ہم فقیروں کو
کسی سائل کو اپنے دَر سے رخصت یوں نہیں کرتے

حیا اور شرم کو ہم حسن کا زیور سمجھتے ہیں
یہ زیوار لٹ كے رہ جائے سخاوت یوں نہیں کرتے

تمہاری اک نظر پہ فیصلہ ہے زندگی کا
مسیحا ہو كے بیماروں سے غفلت یوں نہیں کرتے

مسیحا اور تم ان کفر کی باتوں سے بعض آؤ
خدا کو چھوڑ کر بت کی عبادت یوں نہیں کرتے

آپ نے جو کہا وہی ٹھیک سہی
میرا کہنا بھی کچھ برا تو نہیں

کے عید کا دن ہے گلے آج تو مل لے ظالم
رسمِ دنیا بی ہے موقع بھی ہے دستور بھی ہے

تبصرہ کریں