ذرے ذرے میں تیرا عکس نظر آتا ہے

ahmad-nadeem-qasmi-urd-ghazal

ذرے ذرے میں تیرا عکس نظر آتا ہے
رستہ دیکھتے رہنا بھی اب آساں نہ رہا
راتیں روتی ہیں کے وہ چاند نہ ابھرا اب تک
دن بلکتے ہیں کے وہ مہر درخشاں نہ رہا
پردہ ارض و سما کا یہ تکلف کیسا
ان حجابوں میں تو جلوہ تیرا پنہاں نہ رہا
تجھ سے اک آس لگائی تھی پر اے جان ندیم
یہ دیا بھی میرے سینے میں فروزاں نہ رہا

تبصرہ کریں