پیاس وہ دل کی بجھانے کبھی آیا بھی نہیں

qateel-shifai-ghazal

پیاس وہ دل کی بجھانے کبھی آیا بھی نہیں
کیسا بادل ہے جسکا کوئی سایہ بھی نہیں

بے رخی اس سے بڑی اور بھلا کیا ہوگی
ایک مدت سے ہمیں اس نے ستایا بھی نہیں

روز آتا ہے در دل پہ وہ دستک دینے
آج تک ہم نے جسے پاس بلایا بھی نہیں

سن لیا کیسے خدا جانے زمانے بھر نے
وہ فسانہ جو کبھی ہم نے سنایا بھی نہیں

تم تو شاعر ہو قتیل اور وہ اک عام سا شخص
اس نے چاہا بھی تجھے اور جتایا بھی نہیں

تبصرہ کریں