اٹھا دے پردہ نہیں پردہ میں اٹھا دوں گا

bahadur-shah-zafar-poetry

اٹھا دے پردہ نہیں پردہ میں اٹھا دوں گا
تپش سے دِل کی ابھی عرش تک ہلا دوں گا

نہ ہوتا عشق کا میکش اگر خبر ہوتی
كے ایک جام میں دونوں جہاں بھلا دوں گا

جو پوچھا میں نے لب زخم تو کہے گا کیا
کہا كے خنجر قاتل کیوں میں دعا دوں گا

یہ دے کے دم مجھے لایا تھا کھینچ جوش ظہور
كے چل جہاں کا تماشا تجھے دکھا دوں گا

نہ پوچھ مجھے سے ظفر تو میری حقیقت حال
اگر کہوں گا ابھی تجھ کو میں رلا دوں گا

تبصرہ کریں