-
نہ کسی کی آنکھ کا نور ہوں نہ کسی کے دل کا قرار ہوں کسی کام میں جو نہ آ سکے میں وہ ایک مشت غبار ہوں
-
نہ دوائے درد جگر ہوں میں نہ کسی کی میٹھی نظر ہوں میں نہ ادھر ہوں میں نہ ادھر ہوں میں نہ شکیب ہوں نہ قرار ہوں
-
مرا وقت مجھ سے بچھڑ گیا مرا رنگ روپ بگڑ گیا جو خزاں سے باغ اجڑ گیا میں اسی کی فصل بہار ہوں
-
پئے فاتحہ کوئی آئے کیوں کوئی چار پھول چڑھائے کیوں کوئی آ کے شمع جلائے کیوں میں وہ بیکسی کا مزار ہوں
-
نہ میں لاگ ہوں نہ لگاؤ ہوں نہ سہاگ ہوں نہ سبھاؤ ہوں جو بگڑ گیا وہ بناؤ ہوں جو نہیں رہا وہ سنگار ہوں
-
میں نہیں ہوں نغمۂ جاں فزا مجھے سن کے کوئی کرے گا کیا میں بڑے بروگ کی ہوں صدا میں بڑے دکھی کی پکار ہوں
-
نہ میں مضطرؔ ان کا حبیب ہوں نہ میں مضطرؔ ان کا رقیب ہوں جو بگڑ گیا وہ نصیب ہوں جو اجڑ گیا وہ دیار ہوں