یوں ہی موسم کی ادا دیکھ كے یاد آیا ہے
یوں ہی موسم کی ادا دیکھ كے یاد آیا ہے
کس قدر جلد بَدَل جاتے ہیں انسان جاناں
یوں ہی موسم کی ادا دیکھ كے یاد آیا ہے
کس قدر جلد بَدَل جاتے ہیں انسان جاناں
گر لہو ہے بدن میں تو خوف ہے نہ ہراس
اگر لہو ہے بدن میں تو دِل ہے بے وسواس
جسے ملا یہ متاع گراں بہا اِس کو
نا سیم و زر سے محبت ہے نہ غم افلاس
تو غبار سفر میں خزاں کی صدا
تو سمندر ہے میں ساحلوں کی ہوا
میں نے ساری خدائی میں تجھ کو چنا
تو سمندر ہے میں ساحلوں کی ہوا
تیرے جمال سے آنکھیں حَسِین ہیں میری
تیرے خیال سے دِل میں چراغ جلتے ہیں
تمھیں خبر ہی نہیں كے کوئی ٹوٹ گیا
محبتوں کو بہت پائیدار کرتے ہوئے
اے زندگی تو ہی بتا کیسے تجھ سے پیار کروں میں
تیری ہر سانس میری عمر گھٹا دیتی ہے
تیرے قریب بھی رہ کر تجھے تلاش کروں
محبتوں میں میری بد حواسیاں نہ گئیں
عجیب طرح سے دونوں ناكام ہوئے محسن
وہ مجھے چاہ نہ سکا اور میں اسے بھلا نہ سکا