قطعہ Read in Roman Urdu & English تو غبار سفر میں خزاں کی صدا تو سمندر ہے میں ساحلوں کی ہوا میں نے ساری خدائی میں تجھ کو چنا تو سمندر ہے میں ساحلوں کی ہوا تصحیح بتائیں اگلا ←اِس قدر پیار سے اے جان جہاں رکھا ہے امجد اسلام امجد کا مزید کلامتمام کلام نہ کوئی غم خزاں کا ہے نہ ہے خواہش بہاروں کیپورا شعر پڑھیں ہر بات جانتے ہوئے دل مانتا نہ تھاپورا شعر پڑھیں حیرت سے سارے لفظ اسے دیکھتے رہےپورا شعر پڑھیں