زندگی زندگی تیرے ہونے سے ہے

habib-jalib-ghazal poetry

دل کی کونپل ہری تیرے ہونے سے ہے
زندگی زندگی تیرے ہونے سے ہے

کشت زاروں میں تو کارخانوں میں تو
ان زمینوں میں تو آسمانوں میں تو

شعر میں نثر میں داستانوں میں تو
شہر و صحرا میں تو اور چٹانوں میں تو

حسن صورت-گری تیرے ہونے سے ہے
زندگی زندگی تیرے ہونے سے ہے

تجھ سے ہے آفرینش نمو ارتقا
تجھ سے ہیں قافلے راستے رہنما

تو نہ ہوتی تو کیا تھا چمن کیا صبا
کیسے کٹتا سفر درد کا یاس کا

آس کی روشنی تیرے ہونے سے ہے
زندگی زندگی تیرے ہونے سے ہے

خوف و نفرت کی ہر حد مٹانے نکل
عقل و دانش کی شمعیں جلانے نکل

زیر دستوں کی ہمت بندھانے نکل
ہم خیال اور اپنے بنانے نکل

اب کشا بے کسی تیرے ہونے سے ہے
زندگی زندگی تیرے ہونے سے ہے

تبصرہ کریں