یوں ڈھل رہے شام كے سائے ہیں

یوں ڈھل رہے شام كے سائے ہیں
دھو كے گیسو کسی نے پھیلائے ہیں
نہ یقین آیا اسے نہ ہی رحم آیا کبھی
میں سو بار تڑپا لاکھ آنسو بہائے ہیں
ہر لمحہ پکارا اسے ، ہر وقت صدا دی
یوں خود جلا یوں ہی رقیب جلائے ہیں
اب کی بار آئے گا تو نہ جا پائے گا عامر
نام لکھ اُس کا یوں در و دیوار سجائے ہیں

تبصرہ کریں