سال ہہ سال گزارتے یادِ جاناں میں ہم

yaad-e janaan

سال ہہ سال گزارتے یادِ جاناں میں ہم
خود کو رہے اُجاڑتے یادِ جاناں میں ہم

مشکل نہ ہو یاد کرنے میں، جونؔ کی طرح
اسکا چہرہ رہے اُبھارتے یادِ جاناں میں ہم

اس شہرِ بیابان میں، دیکھ کر موت اپنی
بھاگے جاناں جاناں پُکارتے یادِ جاناں میں ہم

روئے مورخ کے سامنے، سسک سسک کر بادشاہ
اپنی شاہی کا لبادہ اُتارتے یادِ جاناں میں ہم

بیٹھے وہ مغرور سامنے، لیے انا ہم ساتھ میں
دیکھتے اُنھیں، کسی کا بت نکھارتے یادِ جاناں میں ہم

تبصرہ کریں