فطرت کو خرد کے روبرو کر

iqbal-fitrat-ghazal

فطرت کو خرد کے روبرو کر
تسخیر مقام رنگ و بو کر

تو اپنی خودی کو کھو چکا ہے
کھوئی ہوئی شے کی جستجو کر

تاروں کی فضا ہے بیکرانہ
تو بھی یہ مقام آرزو کر

عریاں ہیں ترے چمن کی حوریں
چاک گل و لالہ کو رفو کر

بے ذوق نہیں اگرچہ فطرت
جو اس سے نہ ہو سکا وہ تو کر

تبصرہ کریں