دینا پڑے کچھ ہی ہرجانہ سچ ہی لکھتے جانا

Sach Hi Likhte Jana by habib jalib

دینا پڑے کچھ ہی ہرجانہ سچ ہی لکھتے جانا
مت گھبرانا مت ڈر جانا سچ ہی لکھتے جانا

باطل کی منہ زور ہوا سے جو نہ کبھی بجھ پائیں
وہ شمعیں روشن کر جانا سچ ہی لکھتے جانا

پل دو پل کے عیش کی خاطر کیا دینا کیا جھکنا
آخر سب کو ہے مر جانا سچ ہی لکھتے جانا

لوح جہاں پر نام تمہارا لکھا رہے گا یوں ہی
جالبؔ سچ کا دم بھر جانا سچ ہی لکھتے جانا

تبصرہ کریں