نہ اب وہ یادوں کا چڑھتا دریا نہ فرصتوں کی اداس برکھا

Na Ab Wo Yaadon Ka Charhta Darya

نہ اب وہ یادوں کا چڑھتا دریا نہ فرصتوں کی اداس برکھا
یوں ہی ذرا سی کسک ہے دل میں جو زخم گہرا تھا بھر گیا وہ

تبصرہ کریں