ماں تیری یاد بہت آتی ہے

maan shayari

میں چھوٹی سی اک بچی تھی
تیری انگلی تھام کے چلتی تھی
تو دور نظر سے ہوتی تھی
میں آنسوں آنسو روتی تھی

خوابوں کا اک روشن بستا
تو روز مجھے پہناتی تھی
جب ڈرتی تھی میں رات کو
تو اپنے ساتھ سلاتی تھی

ماں تو نے کتنے برسوں تک
اس پھول کو سینچا ہاتھوں سے
جیون کئی گہرے راز کو
میں سمجھی تیری باتوں سے

میں تیری یاد کے تکیہ پر
اب بھی رات کو سوتی ہوں
ماں میں چھوٹی سی اک بچی
تیری یاد میں اب بھی روتی ہوں

تبصرہ کریں