شعر Read in Roman Urdu & English میں اکیلا ہی چلا تھا جانب منزل مگر لوگ ساتھ آتے گئے اور کارواں بنتا گیا تصحیح بتائیں → پچھلاجفا کے ذکر پہ تم کیوں سنبھل کے بیٹھ گئے اگلا ←رہتے تھے کبھی جن کے دل میں ہم جان سے بھی پیاروں کی طرح مجروح سلطان پوری کا مزید کلامتمام کلام بہانے اور بھی ہوتے جو زندگی کے لیےپورا شعر پڑھیں ترے سوا بھی کہیں تھی پناہ بھول گئےپورا شعر پڑھیں شب انتظار کی کشمکش میں نہ پوچھ کیسے سحر ہوئیپورا شعر پڑھیں