شعر Read in Roman Urdu & English کِس کو خبر تھی، کِس کو یقیں تھا ایسے بھی دن آئیں گے جینا بھی مُشکل ہوگا، اور مرنے بھی نہ پائیں گے تصحیح بتائیں → پچھلالے دے کے اپنے پاس فقط اک نظر تو ہے اگلا ←دنیا نے تجربات و حوادث کی شکل میں ساحر لدھیانوی کا مزید کلامتمام کلام وہ افسانہ جسے انجام تک لانا نہ ہو ممکنپورا شعر پڑھیں جھوٹ کیوں بولیں فروغِ مصلحت کے نام پرپورا شعر پڑھیں جھوٹ تو قاتل ٹھہرا اس کا کیا روناپورا شعر پڑھیں