خموش راتوں میں جو دھڑکنیں بکھیری تھیں

ahmad-nadeem-qasmi-qata

خموش راتوں میں جو دھڑکنیں بکھیری تھیں
میں اُن کو ایک لَڑی میں پرو کے لایا ھوں
توُ ان کو صرف اُچٹتی ھوُئی نظر سے نہ دیکھ
کہ میں ستاروں سے لڑ کر زمیں پہ آیا ھوُں

تبصرہ کریں