-
جو بے شمار بھید سینے میں سمائے بیٹھا ہوں وعدے جو کچھ میں نبھائے بیٹھا ہوں
-
وہ ہیں کے میرے نام سے آشنا تک نہی اور میں دل ہی دل میں انہیں اپنا بنائے بیٹھا ہوں
-
پھیلانا چاہتا ہوں پر اپنے فضاوں میں پر دل کو غم آفاق میں الجھائے بیٹھا ہوں
-
خیالوں میں ان کے حضور کر چکا میں اعتراف محبت پر وقت وصل میں ان کے روبرو شرمائے بیٹھا ہوں
-
،اب تو ناگزیر ہیں اعتراف محبت دنیا کے سامنے میں ان کو اپنا جو فرمایں بیٹھا ہوں
ارسال کنندہ Farzan khan