جو بے شمار بھید سینے میں سمائے بیٹھا ہوں

mohabat

جو بے شمار بھید سینے میں سمائے بیٹھا ہوں
وعدے جو کچھ میں نبھائے بیٹھا ہوں

وہ ہیں کے میرے نام سے آشنا تک نہی
اور میں دل ہی دل میں انہیں اپنا بنائے بیٹھا ہوں

پھیلانا چاہتا ہوں پر اپنے فضاوں میں
پر دل کو غم آفاق میں الجھائے بیٹھا ہوں

خیالوں میں ان کے حضور کر چکا میں اعتراف محبت
پر وقت وصل میں ان کے روبرو شرمائے بیٹھا ہوں

،اب تو ناگزیر ہیں اعتراف محبت
دنیا کے سامنے میں ان کو اپنا جو فرمایں بیٹھا ہوں

guest
0 Comments
Inline Feedbacks
تمام تبصرے دیکھیں