جس دنیا سے تم ڈرتی تھی، اُسے بتلائے بیٹھا ہوں

teri neendain

جس دنیا سے تم ڈرتی تھی، اُسے بتلائے بیٹھا ہوں
جو بھی تھا قصہِ محبت، سب سُنائے بیٹھا ہوں

پکڑے ہاتھ میں جام، گم ہوں اپنی ہستی میں
اور اِنھیں لے کر نامِ خدا، خدا سے ڈرائے بیٹھا ہوں

پوچھ رہے ہٰیں ،یہ کیا کیسے، یہ ہوا کیسے
کھیل کر اِنکی کم عقلی سے جادو دیکھائے بیٹھا ہوں

رت جگے تو فرض ہیں، اُن پر جنھیں عشق ہو
کمال یہ کہ تیری بھی نیندیں اُڑائے بیٹھا ہوں

میرا ربط تھا خوش حالوں سے، اور ضبط کی تھی بات کیا
اب یہ حال ہے کہ مجنوں سا خبط اپنائے بیٹھا ہوں

تبصرہ کریں