شعر Read in Roman Urdu & English جاتی ہے دھوپ اجلے پروں کو سمیٹ کے زخموں کو اب گنوں گا میں بستر پہ لیٹ کے تصحیح بتائیں → پچھلابد قسمتی کو یہ بھی گوارا نہ ہو سکا اگلا ←تو نے کہا نہ تھا کہ میں کشتی پہ بوجھ ہوں شکیب جلالی کا مزید کلامتمام کلام ایک اپنا دیا جلانے کوپورا شعر پڑھیں رہتا تھا سامنے ترا چہرہ کھلا ہواپورا شعر پڑھیں یوں تو سارا چمن ہمارا ہےپورا شعر پڑھیں