جب غم مری دھڑکن مری باتوں سے عیاں تھا ، تو کہاں تھا

jab-gham-meri

جب غم مری دھڑکن مری باتوں سے عیاں تھا ، تو کہاں تھا
جب چاروں طرف درد کے دریا کا سماں تھا، تو کہاں تھا

اب آیا ہے جب ڈھل گئے ہیں سبھی موسم، مرے ہمدم
جب تیرے لئے مرا ہر احساس جواں تھا ، تو کہاں تھا

اب صرف خموشی ہے مقدر کا ستارہ ، مرے یارا
جب لب پہ فقط تیرا فقط تیرا بیاں تھا، تو کہاں تھا

اب آیا ہے جب کام دکھا بھی گیا ساون، مرے ساجن
جب چار سو میرے لئے خوشیوں کا سماں تھا، تو کہاں تھا

تبصرہ کریں