ختم ہونے کو ہیں اشکوں کے ذخیرے بھی جمالؔ

kahatm hone ko hai

ختم ہونے کو ہیں اشکوں کے ذخیرے بھی جمالؔ
روئے کب تک کوئی اس شہر کی ویرانی پر

تبصرہ کریں