اس انتظار میں ہیں کب سے

وہ دیکھے ہمیں نگاہ بھر کے
اس انتظار میں ہیں کب سے
ہم تو حال دل بیان کر چکے
کرے وہ بھی دل کی بات
اس انتظار میں ہیں کب سے
سکون ملے دل کو بھی آئے قرار
کہے وہ کوئی ایسی بات
اس انتظار میں ہیں کب سے
گمنام ہیں ہم نہ کوئی پہچان ہے
اس کے نام سے نام جڑے
اس انتظار میں ہیں کب سے

تبصرہ کریں