ہم تو تم سے وفا کرتے رہے

ہم تو تم سے وفا کرتے رہے
مگر تم تھے جو ہم سے دغا کرتے رہے
ہم کو تمھارے سے کوئی رنجش تھی نہ کوئی غم تھا
مگر تم تھے جو ہم سے گلا کرتے رہے
ہم نے تم کو سمجھایا, بہت کچھ بتایا
مگر تم تھے جو ہم پر ابہام کرتے رہے
بے لگام کرتے رہے
بہت کاوشيں کیں تم کو راضی کرنے کی ہم نے
مگر تم تھے جو بار بار نا کرتے رہے
بےپناہ کرتے رہیں
(شہریار احمد)

تبصرہ کریں