شعر Read in Roman Urdu & English میں ابھی طفلِ مکتب ہوں مجھ کو سمجھایا جائے دِل مر سا گیا ہے ، دفنایا جائے كہ جلایا جائے ارسال کنندہ Nabeel Ahmad تصحیح بتائیں → پچھلااے دل بے قرار چپ ہو جا اگلا ←شب کے سناٹے میں یہ کس کا لہو گاتا ہے مزید درد شاعریسب دیکھیں میرے چہرے سے میرا درد نہ پڑھ پاؤ گے وصیپورا شعر پڑھیںوصی شاہ اب اپنی یادوں سے ہمیں رہائی دےپورا شعر پڑھیں تعلق کرچیوں کی شکل میں بکھرا تو ہے پھر بھیپورا شعر پڑھیںاعتبار ساجد