مواد پر جائیں
SadPoetry
بھولی ہوئی صدا ہوں مجھے یاد کیجیے — ساغر صدیقی

بھولی ہوئی صدا ہوں مجھے یاد کیجیے

ساغر صدیقی غزل 6 اشعار
  1. بھولی ہوئی صدا ہوں مجھے یاد کیجیے تم سے کہیں ملا ہوں مجھے یاد کیجیے

  2. منزل نہیں ہوں خضر نہیں راہزن نہیں منزل کا راستہ ہوں مجھے یاد کیجیے

  3. میری نگاہ شوق سے ہر گل ہے دیوتا میں عشق کا خدا ہوں مجھے یاد کیجیے

  4. نغموں کی ابتدا تھی کبھی میرے نام سے اشکوں کی انتہا ہوں مجھے یاد کیجیے

  5. گم صم کھڑی ہیں دونوں جہاں کی حقیقتیں میں ان سے کہہ رہا ہوں مجھے یاد کیجیے

  6. ساغرؔ کسی کے حسن تغافل شعار کی بہکی ہوئی ادا ہوں مجھے یاد کیجیے

ارسال کنندہ iqbal designs

تصحیح بتائیں

ساغر صدیقی کا مزید کلام

تمام کلام