-
بھولی ہوئی صدا ہوں مجھے یاد کیجیے تم سے کہیں ملا ہوں مجھے یاد کیجیے
-
منزل نہیں ہوں خضر نہیں راہزن نہیں منزل کا راستہ ہوں مجھے یاد کیجیے
-
میری نگاہ شوق سے ہر گل ہے دیوتا میں عشق کا خدا ہوں مجھے یاد کیجیے
-
نغموں کی ابتدا تھی کبھی میرے نام سے اشکوں کی انتہا ہوں مجھے یاد کیجیے
-
گم صم کھڑی ہیں دونوں جہاں کی حقیقتیں میں ان سے کہہ رہا ہوں مجھے یاد کیجیے
-
ساغرؔ کسی کے حسن تغافل شعار کی بہکی ہوئی ادا ہوں مجھے یاد کیجیے
ارسال کنندہ iqbal designs


