-
اپنی قسمت کو پِھر بَدَل کر دیکھتے ہیں آؤ محبت کو اک بار سنبھل کر دیکھتے ہیں
-
چاند تارے پھول شبنم سب رکھتے ہیں اک طرف محبوب نظر پہ اس بار مر کر دیکھتے ہیں
-
جسم کی بھوک تو روز کئی گھر اجاڑ دیتی ہے ہم روح رواں کو اپنی جان کر كے دیکھتے ہیں
-
چھوڑ دیتے ہیں کچھ دن یہ فضا کا مقام چند روز اِس گھر سے نکل کر دیکھتے ہیں
-
لوح فنا سے جانا تو فطرت ہے سبھی کی یار شاطر پہ اعتبار پھر کر كے دیکھتے ہیں
-
کون سوار ہے کشتی میں کون جاتا ہے ساحل پر سات سمندر سے ’ آصف ’ گفتگو کر كے دیکھتے ہیں
شاعر Muhammad Asif Ali (Indian Poet)
ارسال کنندہ Muhammad Asif Khan


