ابھی جوانی باقی ہے ابھی زندگانی باقی ہے

abhi-jawani-baqi-hai

ابھی جوانی باقی ہے ابھی زندگانی باقی ہے
آجا اے صنم کہ ابھی کہانی باقی ہے

نئے زخم اٹھانے کی تاب کہاں
ابھی وہی چوٹ پرانی باقی ہے

دل میں ہے آج بھی تیری فرقت کا غم
تیرے پیار کی ابھی نشانی باقی ہے

تبصرہ کریں