اب دل کا سفینہ کیا ابھرے طوفاں کی ہوائیں ساکن ہیں

gardab nahi

اب دل کا سفینہ کیا ابھرے طوفاں کی ہوائیں ساکن ہیں
اب بحر سے کشتی کیا کھیلے موجوں میں کوئی گرداب نہیں

تبصرہ کریں