40 اشعار · 8 شعرا
یہ آنکھ جب ذرا نم ہو اور بارش کا موسم ہو مجھے لاحق تیرا غم ہو اور بارش کا موسم ہو اداسی جم سی جاتی ہے کسی برف کی مانند خیالوں میں اگر تم ہو اور بارش کا موسم ہو
تیز بارش میں کبھی سرد ہواؤں میں رہا اک تیرا ذکر تھا جو میری صداؤں میں رہا کتنے لوگوں سے میرے گہرے مراسم ہیں مگر تیرا چہرہ ہی فقط میری دعاؤں میں رہا
دور تک چھائے تھے بادل اور کہیں سایہ نہ تھا اس طرح برسات کا موسم کبھی آیا نہ تھا
بوندوں نے گر کے غضب سا ہے ڈالا موسم میں موسم عجب سا ہے ڈالا یہ بارش کا بادل بھی مجھ سا ہے رنج جو چھلکا ذرا ، سب بَدَل سا ہے ڈالا
بارش کی یہ پہلی بوندیں کیسا جادو کرتی ہیں دِل سے خون کے قطرے لے کر میری آنکھیں بھرتی ہیں بارش کے اِس دریچے سے کتنے منظر کھلتے ہیں خواب سا علم ، لہجہ مدھم آنکھیں نم نم ، بھیگا موسم پہلی بارش ، پہلی خواہش
وہ یاد بھی اب کے آیا ہے ، اور جاگ اٹھی ہے خواہش بھی تازہ درد ، سرد ہوا اور سال کی پہلی بارش بھی
اے بارش برس ، برس اور برس آج تو اس کی یادوں کو بہا لے جا
یہ حسنِ موسم ، یہ بارش ، یہ ہوائیں لگتا ہے محبت نے آج کسی کا ساتھ دیا ہے
پتہ ہے مجھے یہ بارشیں کیوں پسند ہیں یہ برستی ہیں اداس لوگوں کی طرح
کل کی اس بارش میں پِھر وہی سا منظر تھاپِھر وہی سی بوندیں تھی پِھر وہی سی ٹھنڈک تھیپِھر وہی سا سب کچھ تھا پر
تیز بارش میں کھڑا ہوں وہ اک جملہ سننے کو ارے ادھر آؤ بھیگ جاؤ گے
جب بارش برسا کرتی ہے اور ہر سو پانی ہوتا ہےہَم اپنے گھر کے آنگن میں امر بیل كے سائے میں
اِس بارش كے موسم میں عجیب سے کشش ہے نہ چاہتے ہوئے بھی کوئی شدت سے یاد آتا ہے
ہم تنہا تھے جب بارش نے دستک دی دروازے پر ہمیں یوں لگا کے تم آئے ہوانداز تمھارے جیسا تھا ہم تنہا تھے جب راہوں میں اک جھونکے نے میرا ساتھ دیاہمیں یوں لگا کے تم آئے ہو انداز تمھارے جیسا تھانا رہی بارش نا رہا جھونکا سب چھوڑ گئے مجھ کو تنہا
بارش کی تیز بوندوں نے جب دستک دی دروازے پر محسوس ہوا تم آئے ہو ، اندازِ تمھارے جیسا تھاہوا كے ہلکی جھونکے کی جب آہٹ ہوئی کھڑکی پر محسوس ہوا تم آئے ہو ، اندازِ تمھارے جیسا تھامیں تنہا چلا جب بارش میں ، اک جھونکے نے میرا ساتھ دیا میں سمجھا تم ہو ساتھ میرے ، احساس تمھارے جیسا تھاپِھر رک گئی وہ بارش بھی ، رہی نہ باقی آہٹ بھی میں سمجھا مجھے تم چھوڑ گئے ، اندازِ تمھارے جیسا تھا
آج بھی ویسا ہی موسم ہے آج بھی ویسی ہی بادل ہیںآج بھی ویسی ہی بارش ہے جب ہم پہلی بار ملے تھےیاد ہے ہم نے یہ سوچا تھا ہم کو ملتے دیکھ كے موسماتنا خوش ہے ، اتنا خوش كے اس کی آنکھیں بیگھ گئیں ہیں
محبت تو بارش ہے جسے چھونے کی خواہش میں ہتھیلیاں گھیلی ہو جاتی ہیں مگر ہاتھ ہمیشہ خالی ہی رہتے ہیں
جو بارش کی تمنا ہے تو ان آنکھوں میں آ بیٹھو وہ برسوں میں کہیں برسیں یہ برسوں سے برستی ہے
یوں ہی موسم کی ادا دیکھ كے یاد آیا ہے کس قدر جلد بَدَل جاتے ہیں انسان جاناں
وہ جسے بارش پسند نہ تھی نہ جانے کیوں آج دیر تک تنہا دسمبر کی بارش میں بھیگتا رہا
40 میں سے 40 دکھائے جا رہے ہیں