مواد پر جائیں
SadPoetry

ہوئی جس سبب ہَم سے تم سے جدائی

شیئر کریں
کارڈ بنائیں
  1. ہوئی جس سبب ہَم سے تم سے جدائی نہ تم ہَم سے پوچھو نہ ہم تم سے پو چھیں بیان یہ تو کر دے گی ساری خدائی نہ تم ہَم سے پوچھو نہ ہم تم سے پو چھیں

  2. یہ مشہور ہے دِل سے ہے راہ دِل کو کیا کرتا ہے دِل ہی آگاہ دِل کو وہ دِل ہی سے پوچھو جو ہے دِل میں آئی نہ تم ہَم سے پوچھو نہ ہم تم سے پو چھیں

  3. ہمیں چاہو تم اور ہم تم کو چاہیں ادھر تم نبھاو ، اُدھر ہم نبھائیں اسی سے ہے رام درا آشْنائی نہ تم ہم سے پوچھو نہ ہم تم سے پو چھیں

  4. پہلی سی اک رمز مہرو وفا ہے اسے پُوچھتا ہے تو دِل پُوچھتا ہے نہیں جاتی منہ سے یہ ہرگز بتائی نہ تم ہم سے پوچھو نہ ہم تم سے پو چھیں

  5. بلا سے کوئی گھر بھلا یا برا ہو ہمیں کیا غرض اور تمہیں کام کیا ہے ظفر اب کسی کی برائی بھلائی نہ تم ہَم سے پوچھو نہ ہم تم سے پو چھیں

تصحیح بتائیں

بہادر شاہ ظفر کا مزید کلام

تمام کلام