اس نے اچھا ہی کیا حال نہ پوچھا دِل کا

اس نے اچھا ہی کیا حال نہ پوچھا دِل کا
بھڑک اٹھتا تو یہ شعلہ نہ دبایا جاتا
عشق سنتے تھے جسے ہَم وہ یہی ہے شاید
خود بہ خود ہے دِل میں اک شخص سمایا جاتا

تبصرہ کریں