یہ نا سمجھو کے بچھڑا ہوں تو بھول گیا ہوں تم کو

یہ نہ سمجھو کے بچھڑا ہوں تو بھول گیا ہوں تم کو
تیرے ہاتھوں کی خوشبو مرے ھاتھوں میں آج بھی ہے

یہ اور بات ہے مجبوریوں نے نبھانے نہ دیا وہ تعلق
ورنہ شامل سچائی میری وفاؤں میں آج بھی ہے

محبت سے بڑھ کر تم سے عقیدت ہے مجھے آج بھی
یوں مقام تیرا بلند میرے دِل میں آج بھی ہے

ہر لمحہ زندگی میں محبتیں نصیب ہوں تجھے
شامل تو میری زندگی کی دعاؤں میں آج بھی ہے

تبصرہ کریں