نہیں میں غم سے ابرا ہوں ، کہیں اک درد باقی ہے

نہیں میں غم سے ابرا ہوں ، کہیں اک درد باقی ہے
نہیں وہ اب ملے گی پر ، ابھی امید باقی ہے
سفر میں عشق كے یارو ، میں کیا کیا داستان لکھوں
بہت سے خواب ٹوٹے ہے ، بہت سے خواب باقی ہیں

بس اسکی یاد میں اب تو ، مجھے کھونے دو اس حد تک
اگر میں رو رہا ہوں تو ، مجھے رونے دو اس حد تک
بہت آنسو ہے آنکھوں میں ، انہیں بہنے سے نہ روکو
بہے جو کچھ نہیں یہ تو ، ابھی سیلاب باقی ہے

رہے گی جان جب تک یہ ، اسے نہ بھول پاؤں گا
كہ جب تک مٹ نہ جاؤں میں ، اسےشدت سے چاہوں گا
حسین اب بات یہ ہے تو ، ابھی کیسے اسے بھولوں
ابھی ہیں دھڑکنیں دِل میں ، ابھی کچھ سانس باقی ہے

تبصرہ کریں