وہ بیان کر گیا اک منظر الیگار سے

Fasanae-mohabbat

وہ بیان کر گیا اک منظر الیگار سے
ہر پل کو تراشا اور ارض کیا اپنے یار سے

کیا پتہ یہ صلہ ملتا ہے دِل لگانے کا
پیار کی کشتی کو اتارا تھا بڑے پیار سے

زخم جو بنتا ہے وہ دیکھتا نہیں جسم ہے
اور آب چشم بھی رکتا نہیں ابصار سے

اکثر روشنی سے اک آس دکھتی ہے زندگی کی
چراغیں جلا ئے بیٹھا ہے اس انتظار سے

عرضمند ہے وہ صبر رکھتے ہے ناساز كے بَعْد
جیتے ہے وہ ہمیشہ اکژیت كے اشرار سے

قمر کی چاندنی راتوں میں وہ پل یاد آئے تو
دعا کرنا کہ شفاء ملے پرور دیگار سے

تبصرہ کریں