رات پِھر رنگ پہ تھی اُس كے بدن کی خوشبو

aansoo-raat

رات پِھر رنگ پہ تھی اُس كے بدن کی خوشبو
دِل کی دھڑکن تھی كے اڑتے تھے لہو میں جگنو

جیسے ہر شہ ہو کسی خوابِ فراموش میں گم
چند چمکا نا کسی یاد نے بدلا پہلو

صبح كے زینہ خاموش پہ قدموں كے گلاب
شام کی بند حویلی میں ہنسی کا جادو

صحن كے سبز اندھیرے میں دمکتے رخسار
صاف بستر كے اجلے میں چمکتے گیسو

جھلملاتے رہے وہ خواب جو پورے نہ ہوئے
دَرْد بیدار ٹپکتا رہا آنسو آنسو

تبصرہ کریں