-
اب یہ طے ہوا کا آج پِھر ملاقات کریں گے برسوں کی دوستی پر پِھر سے بات کریں گے
-
جاڑیں گے تعلقات سے یوں فاصلوں کی دھول باتوں میں محو ہو كے صبح سے رات کریں گے
-
وہ وقت بھی پل صراط تھا جو گزرا تیرے بغیر اب روشنیوں اور تجلیوں کی برسات کریں گے
-
جو وسوسوں کی بارشیں تھی اب وہ تھم گئیں اعتماد کی فضا میں اب ہر بات کریں گے
-
رواجوں كے گنجلوں میں الجھا ہوا تھا میں سلجھا كے سب کچھ خوشیوں کو سوغات کریں گے
ارسال کنندہ Shabeeb Hashmi


