اب یہ طے ہوا کا آج پِھر ملاقات کریں گے

dosti-poetry

اب یہ طے ہوا کا آج پِھر ملاقات کریں گے
برسوں کی دوستی پر پِھر سے بات کریں گے

جاڑیں گے تعلقات سے یوں فاصلوں کی دھول
باتوں میں محو ہو كے صبح سے رات کریں گے

وہ وقت بھی پل صراط تھا جو گزرا تیرے بغیر
اب روشنیوں اور تجلیوں کی برسات کریں گے

جو وسوسوں کی بارشیں تھی اب وہ تھم گئیں
اعتماد کی فضا میں اب ہر بات کریں گے

رواجوں كے گنجلوں میں الجھا ہوا تھا میں
سلجھا كے سب کچھ خوشیوں کو سوغات کریں گے

تبصرہ کریں