کبھی یوں بھی ہَم نے کاغذ پہ اتاری غزلیں

ghazalain

کبھی یوں بھی ہَم نے کاغذ پہ اتاری غزلیں
قلم رو دیا تو ہنس پڑی ساری غزلیں

ہَم نے اپنے ہنر کو بہت دیر تک آزمایا
جیتے تم ہی آخر اور ہاری غزلیں

مکتبِ عشق کی یہ بات تمہیں سمجھ نہیں آئی
لازمی تم ہی تھے ، تھی اِخْتِیاری غزلیں

مدتوں سے یہیں عالم ہے میرے شہر میں
نا ہی حالات بدلے ہیں نہ ہماری غزلیں

یہ سفرِ قلم میرا رنگ لائے گا اک دن
غلام لکھتا رہوں گا یوں ہی بیداری غزلیں

تبصرہ کریں