-
کبھی یوں بھی ہَم نے کاغذ پہ اتاری غزلیں قلم رو دیا تو ہنس پڑی ساری غزلیں
-
ہَم نے اپنے ہنر کو بہت دیر تک آزمایا جیتے تم ہی آخر اور ہاری غزلیں
-
مکتبِ عشق کی یہ بات تمہیں سمجھ نہیں آئی لازمی تم ہی تھے ، تھی اِخْتِیاری غزلیں
-
مدتوں سے یہیں عالم ہے میرے شہر میں نا ہی حالات بدلے ہیں نہ ہماری غزلیں
-
یہ سفرِ قلم میرا رنگ لائے گا اک دن غلام لکھتا رہوں گا یوں ہی بیداری غزلیں
ارسال کنندہ Mian Ghulam Murtaza Kamboh


