مواد پر جائیں
SadPoetry
کبھی یوں بھی ہَم نے کاغذ پہ اتاری غزلیں

کبھی یوں بھی ہَم نے کاغذ پہ اتاری غزلیں

غزل 5 اشعار
  1. کبھی یوں بھی ہَم نے کاغذ پہ اتاری غزلیں قلم رو دیا تو ہنس پڑی ساری غزلیں

  2. ہَم نے اپنے ہنر کو بہت دیر تک آزمایا جیتے تم ہی آخر اور ہاری غزلیں

  3. مکتبِ عشق کی یہ بات تمہیں سمجھ نہیں آئی لازمی تم ہی تھے ، تھی اِخْتِیاری غزلیں

  4. مدتوں سے یہیں عالم ہے میرے شہر میں نا ہی حالات بدلے ہیں نہ ہماری غزلیں

  5. یہ سفرِ قلم میرا رنگ لائے گا اک دن غلام لکھتا رہوں گا یوں ہی بیداری غزلیں

ارسال کنندہ Mian Ghulam Murtaza Kamboh

تصحیح بتائیں

مزید غزل شاعری

سب دیکھیں