-
دِل كے پہلو میں یادوں کا سفر جاری ہے دکھ نمایاں ہے مگر چاہت کا سفر جاری ہے
-
کاش مل جائیں کبھی یوں راہوں میں چلتے چلتے لرزتے ہونٹوں پے دعاؤں کا سفر جاری ہے
-
ایک دو جام پلانے سے نا ہو رنجیدہ اے ساقی میں بہک جاؤں بھی مگر پینے کا سفر جاری ہے
-
سوکھی شاخوں پہ خزاؤں نے بھی رنگ چھوڑا ہے پر شام کی دہلیز پہ ہواؤں کا سفر جاری ہے
ارسال کنندہ Shabeeb Hashmi

