دِل كے پہلو میں یادوں کا سفر جاری ہے

yaadon-ka-safr

دِل كے پہلو میں یادوں کا سفر جاری ہے
دکھ نمایاں ہے مگر چاہت کا سفر جاری ہے

کاش مل جائیں کبھی یوں راہوں میں چلتے چلتے
لرزتے ہونٹوں پے دعاؤں کا سفر جاری ہے

ایک دو جام پلانے سے نا ہو رنجیدہ اے ساقی
میں بہک جاؤں بھی مگر پینے کا سفر جاری ہے

سوکھی شاخوں پہ خزاؤں نے بھی رنگ چھوڑا ہے
پر شام کی دہلیز پہ ہواؤں کا سفر جاری ہے

تبصرہ کریں