اِس طرح ستانے کی ضرورت کیا تھی

اِس طرح ستانے کی ضرورت کیا تھی
کمینی دِل کو جلانے کی ضرورت کیا تھی

جو نہیں تھا عشق تو بھونک دیتی
اپنی اوقات دکھانے کی ضرورت کیا تھی

معلوم تھا کے یہ خواب ٹوٹ جائے گا
او منحوس پِھر نیند میں آنے کی ضرورت کیا تھی

مان لو اگر یہ ایک طرفہ محبت تھی
تو پِھر چوہی كے منہ والی
مجھے دیکھ کر مسکرانے کی ضرورت کیا تھی

تبصرہ کریں